نئی دہلی6جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سابق وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے ہفتہ کو کہا کہ 2019-20 کا بجٹ اعلیٰ اقتصادی ترقی کی شرح کے راستے پر ملک کے لوٹنے کو لے کر بنیاد پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ اس بات پر مبنی ہے کہ جو معیشتیں سوجھ بوجھ والی مالی پالیسیوں کا مقابلہ کرتی ہیں، وہ مالی محاذ پر لاپرواہی کرنے والوں کے مقابلے میں بالآخر مستحکم ہوتی ہیں۔بجٹ پیش ہونے کے ایک دن بعدارون جیٹلی نے کہا کہ ایک بنیادی سوال ہمیشہ پوچھا جاتا رہا ہے کہ اچھا معاشیات اور ہوشیار سیاست کے درمیان کیاکیاجانا چاہیے۔دی بجٹ 2019-20 کے عنوان سے اپنے پوسٹ میں انہوں نے کہاہے کہ یہ آپشن غیر مناسب ہے کیونکہ کسی بھی حکومت کو بنے رہنے اور کارکردگی کے لیے دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔وزیر اعظم کا پہلا دور بہتر معاشیات اوراچھی سیاست کے اختلاط کا گواہ رہاہے۔اس کے علاوہ روزگار اور سرمایہ کاری اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے بنیادی ڈھانچہ، تعمیر اور ریئل اسٹیٹ علاقے کو بھی رفتار دینے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ارون جیٹلی نے کہاہے کہ بھارت دنیا میں تیز رفتار اقتصادی ترقی والا بڑی معیشت بنا ہواہے۔قابل ذکر ہے کہ بھارت کی اقتصادی ترقی جنوری-مارچ سہ ماہی میں گھٹ کر پانچ سال کے کم از کم سطح 5.8 فیصد رہی۔ پورے مالی سال 2018-19 میں بھی اقتصادی ترقی کی شرح بھی پانچ سال کے کم از کم سطح 6.8 فیصد رہی۔اقتصادی جائزہ میں رواں مالی سال میں اقتصادی ترقی کی شرح 7 فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے۔